جاتے جاتے شام کی


کیسی رنگت ہوگئی


جس کے اندر 


ڈھلتے دن اور آتی شب کی 


سب  سوغاتیں 


گھل مل جاتی ہیں


ایسے میں


یادوں کے دیپ جلاے


میں چپ چاپ کھڑا تھا


سوچ  رہا تھا


میرا ساجن ملنے آے


تو میں جشن مناؤں