زھر سا ملا ہے ہواؤں کے اندر
گھٹن ہی گھٹن ہے فضاؤں کے اندر 

دے جا رھے ہیں نشے کی پْری بھی
بمقدار چٹکی دواؤں کے اندر 



کبھی تھی ضرورت پڑی قاصدوں کی
ملے اب پیامی خلاؤں  کے اندر



کسی روز آ  کے ملو یار ہم سے
ملے ہے تجھے کیا جفاؤں کے اندر


شہیدوفا کی تجھے کیا خبر ہو

رکھا کیا سہر ہے وفاؤں کے اندر