حسین موسم گلاب میرے

لئے ہوئے ہیں یہ خواب میرے


کیے تھے اس نے سوال جتنے
بجھا رتوں میں جواب میرے


کہوں میں کیسے پکارا اس نے
اے میرے ہمدم! جناب میرے


اسی کے دم سے چمک رہے ہیں
گہر، قمر کیا، سراب میرے


مرے سحر جو صنم کدے میں
اسی کی خاطر عتاب میرے