پرندے درختوں سے اڑنے لگے ہیں
قضارا شجر سارے کٹنے لگے ہیں
   

مہذب طریقے عداوت کے دیکھو 
کہ پانی کے رستے بدلنے لگے ہیں


ہماری رفاقت پے  کس کو یقیں ہے
 ہمیں کو سہارے کچلنے لگے ہیں


خزاؤں کے موسم میں گل کیا کھلیں گے
بہاروں کے حلیے بگڑنے لگے ہیں


ریاض سحر کے ارادے نہ پوچھو
چلے جا رہے تھے کہ  پھرنے لگے ہیں